Healing and Treatment from Quran and Hadith (Dua and Quran verses for Ruqyah)
Quran is a miracle that Allah revealed to His prophet (s.a.w.s) and it is a blessing for humanity. The Quran is not only a guidance for mankind but Allah has also made it a spiritual cure and healing for all types of ailments. This includes treatment of all worldly problems, physical and psychological ailments, and spiritual (evil eye, sihr, and so on.) The Creator has clearly told us that the words of the Quran are a “shifa” (healing) for all and, therefore, when used with real belief in one’s heart, this form of treatment can bring miraculous cure to all forms of ailments.
قرآن اور حدیث کے ذریعے علاج
قرآن ایک معجزہ ھےجو اللہ تعالی نےاپنےنبی ﷺ کو عطا کیااور یہ انسانیت کے لیے ایک نعمت ہے۔ قرآن نہ صرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ اللہ تعالی نے اس میں ہر طرح کی بیماریوں کاعلاج بھی رکھا ہے۔ اس علاج میں جسمانی، نفسیاتی اور روحانی (بری نظر اور جادو وغیرہ) جیسے تمام دنیاوی مسا ئل شامل ھیں۔ خالق کائنات نے ھمیں واضح طور پر بتایا ھے کہ قرآنی آیات میں ھم سب کے لیے شفا ہے اور اس لیے جب دل میں کامل یقین کے ساتھ روحانی علاج کو اپنایا جائے تو ھر طرح کی بیماریوں کا معجزانہ علاج کیا جا سکتا ہے۔
Islamic Beliefs Related to Causes of Diseases and Their Cures
Before seeking cures for any disease, a Muslim should first believe that all diseases as well as their cures are in Allah’s hands and power. Allah alone decrees trials for His creation and He alone can decree their remedies. All means of getting sick and healed are, therefore, contingent upon Allah’s decree. As part of a Muslim’s belief, this principle is important because people sometimes fail to understand how afflictions come down upon a person and seek their cures without internalizing this reality. So, Allah is the One Who heals whomsoever He wills, and He decrees sickness and death for whomsoever He wills.
بیماریوں کی وجوھات اور انکےعلاج کےبارے میں اسلامی عقائد
کسی بیماری کا علاج ڈھونڈنے سے پہلے ایک مسلمان کا ایمان ھونا چاھیے کہ تمام بیماریاں اور انکا علاج اللہ کے ہاتھ اور اسکی قدرت میں ہے- صرف اللہ اپنی مخلوق کو آزماتا ہے اور وہی اسے مشکل سے نکالتا ہے۔ بیماری کا آنا اور اسکا علاج اللہ کے حکم سے ہے- یہ اصول ایک مسلمان کے ایمان کا اہم حصہ ہےکیونکہ بعض اوقات لوگ یہ سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ ایک انسان پر مشکلات کیسے آتی ہیں اور وہ اس حقیقت کو جانے بغیر ان مشکلات کا حل ڈھونڈتے ھیں۔ اللہ ہی ہے جو شفا دیتا ہے اور بیماری اور موت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
We find in a saheeh hadith that the prophet (s.a.w.) said the following:
“For every disease there is a medicine, and if that medicine is applied to the disease, he will recover by Allah’s Leave.” And he (s.a.w.) said: “Allah has not sent down any disease but He has also sent down the cure; the one who knows it, knows it and the one who does not know it, does not know it.”
فرمان کاﷺصحیح حدیث کے مطابق نبی
ہر بیماری کی دوا موجود ہے اور اگر وہ دوا آزمائی جائے تو اللہ شفا دے گا- آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں بھیجی جس کا علاج نہ ہو مگر اس کا علم ہر کسی کے پاس نہیں۔
Quranic Treatment and Healing Through Ruqyah
As for treatment, Islam also offers its believers the opportunity to treat ailments using ruqyah, according to Islamic beliefs, can be used in the treatment of all forms of ailment. Ruqyah refers to Quranic verses (and dua) that are used to treat various ailments.
ہ کے زریعےقرانی علاجارقی
اسلام اپنے ماننے والوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق رقیاہ کے ذریعے سب بیماریوں کا علاج کر سکیں۔ رقیاہ میں قرانی آیات اور دعائیں شامل ھیں جنہیں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے-
بسمِ اللهِ ، اللهُ أكبرُ الله أكبرُ اللهُ أكبرُ، أقولُ على نفسي ، وعلى دِيني ، وعلى أهلي ، وعلى أولادي ، وعلى مالي ، وعلى أصحابي ، وعلى أديانهم ، وعلى أموالهم ؛ ألف بسمِ اللهِ ، اللهُ أكبرُ الله أكبرُ اللهُ أكبرُ أقول على نفسي ، وعلى دِيني ، وعلى أهلي ،وعلى أولادي، وعلى مالي ، وعلى أصحابي ، وعلى أديانهم ، وعلى أموالهم ؛ ألف ألفِ بسمِ اللهِ ، اللهُ أكبرُ الله أكبرُ اللهُ أكبرُ ، أقول على نفسي ، وعلى دِيني ، وعلى أهلي ،وعلى أولادي، وعلى مالي ، وعلى أصحابي ، وعلى أديانهم ، وعلى أموالهم ؛ ألف ألفِ لا حول ولا قوة إلاّ باللّه العلي العظيم ، بسم الله ، وبالله ، ومن الله ، وإلى الله ، وعلى الله ، وفي الله ، ولا حول ولا قوة إلاّ بالله العلي العظيم . بسم الله على دِيني وعلى نفسي وعلى أولادي ، بسم الله على مالي وعلى أهلي وعلى أصحابي ، بسم الله على كلِّ شيءٍ أعطانيه ربي ، بسم الله ربِّ السماوات السبع ، ورب الأرضين السبع ، ورب العرش العظيم (بسم الله الذي لا يضرُّ مع اسمه شيءٌ في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ، ثلاثاً) بسم الله خير الأسماء في الأرض وفي السماء ، بسم الله أفتتح وبه أختتم ؛ الله الله الله ، اللهُ ربي لا أشرك به شيئاً ، الله الله الله . اللهُ ربي لا إله إلاّ الله ،اللهُ أعزُّ وأجلُّ وأكبرُ مما أخافُ وأحذر ، بك اللهم أعوذ بك مِن شرِّ نفسي ، ومِن شرِّ غيري ، ومن شرِّ ما خلق ربي وذرأ وبرأ، وبك اللهم أحترزُ منهم ، وبك اللهمَّ أعوذ مِن شرورِهم ، وبك اللهم أدْرَأُ في نحورِهم وأُقدِّمُ بين يديَّ وأيديهم (بسم الله الرحمن الرحيم قل هو الله أحد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً أحد ، ثلاثاً) ومِثلُ ذلك عن يميني وأيمانهم ، ومِثلُ ذلك عن شمالي وعن شمائلهم ، ومِثلُ ذلك أمامي وأمامهم ، ومِثلُ ذلك من خلفي ومن خلفهم ، ومِثلُ ذلك من فوقي ومن فوقهم ، ومِثلُ ذلك من تحتي ومن تحتهم ، ومِثلُ ذلك محيطٌ بي وبهم . اللهم إني أسألك لي ولَهم من خيرِك بخيرِك الذي لا يملكه غيرك ، اللهم اجعلني وإيّاهم في عبادِكَ وعياذك وجوارِكَ وأمانكَ وحزبك وحِرْزِك وكنَفِكَ ، من شر كلّ شيطانٍ وسلطان ، وإنسٍ وجان ، وباغٍ وحاسد ، وسَبعٍ وحيَّةٍ وعقرب ؛ ومن شرِّ كلِّ دابَّةٍ أنت آخِذٌ بناصيتِها، إنَّ ربِّي على صراطٍ مستقيم، حسبي الربُّ مِن المربوبين ، حسبي الخالق من المخلوقين ، حسبي الرازق من المرزوقين ، حسبي الساتر من المستورين ، حسبي الناصر من المنصورين ، حسبي القاهر من المقهورين ، حسبي الذي هو حسبي ، حسبي مَن لم يزل حسبي ، حسبي اللّهُ ونِعم الوكيل ، حسبي الله من جميع خلقه (إنَّ وليي اللهُ الذي نَزَّلَ الكِتابَ وَهُوَ يَتَوَلّى الصَّالحين، وإذا قَرَأْتَ القُرْءانَ جعَلْنا بينك وبين الذينَ لا يُؤْمنونَ بالآخِرَةِ حجاباً مسْتوراً ، وجعلنا على قُلُوبِهمْ أَكِنَّةً أنْ يَفْقَهُوهُ وفي ءاذانِهمْ وَقْراً ، وإذا ذَكَرْتَ ربَّكَ في القُرْءانِ وَحْدَهُ وَلَّوْا علَى أدْبارِهِمْ نُفُورا ،فإنْ تَوَلَّوا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لا إلَهَ إلاّ هُوَ عَلَيهِ توَكَّلْتُ وهُوَ رَبُّ العَرْش العَظِيم ، سبعاً) ( ولا حول ولا قُوة إلاّ بالله العلي العظيم ، ثلاثا) وصلَّى الله على سيدِنا محمدٍ وعلى آلهِ وصحبه وسلَّم . ثم ينفث من غير بصق عن يمينه ثـلاثاً وعن شماله ثـلاثاً ومن أمامه ثلاثاً ومن خلفه ثلاثاً (خَبَأْتُ نفسي في خزائن بسم الله ، أقفالها ثقتي بالله ، مفاتيحها لا قوة إلاّ بالله ، أُدافـِعُ بك اللهم عن نفسي ما أُطيقُ وما لا أُطيق ، لا طاقةَ لمخلوقِِ مع قدرةِ الخالق ؛ حسبي الله ونعم الوكيل ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم ، ثلاثا
أدعية : • ( بسم الله ارقيك من كل داءًٍ يؤذيك ومن شر كل نفساً او عين حاسد الله يشفيك بسم الله ارقيك ) • ( اذهب البأس رب الناس اشف انت الشافي لا شفاء الا شفائك شفاءً لايغادر سقما ) (3 مرات) • ( بِسْمِ اللَّهِ (3 مرات) أُعِيذُكَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ ما تَجِدُ وتُحَاذِرُ ( 7 مرات) ) • ( أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك ) (7 مرات) • ( اللهم أذهب عنه حرها وبردها ووصبها ) (3 مرات) • ( أعيذك بكلمات التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامه) (3 مرات)****
____اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان اور نہایت رحم والے ہیں ____
أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمداً عبده و رسوله
□میں گواہی دیتا/ دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں۔اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔
آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت
4 *- تیل زیتون* کھائیں اور ناف میں ناک میں آنکھ کے اوپر اور کان میں اور سر اور دونوں ہاتھوں اور پاؤں اور متاثرہ حصے پر لگائیں
5 *- ورق السدر* بیری کے سات پتے لیکر انکی دو پتھروں سے چٹنی بنا کر ایک گلاس پانی میں ڈالیں اس پر سات بار سورة الفاتحة اور؛ آیت الکرسی اور سورة الكافرون اور سورة إخلاص اور سورة الفلق اور سورة الناس اور تيسرا كلمه اور چوتھا کلمہ اور درود شریف پڑھ کر تین گھونٹ پانی پی لیں اور باقی پانی ملا کر نہا لیں یہ عمل تین بار کریں
6 *- نمک ڈھلا* آگ میں پکا لیں اور پیس کر کھانے میں استعمال کریں.
{دوائی کا استعمال}
آدھا کیلو دودھ گرم کریں جب ابال آ جائے تو گولیاں کوٹ کر دودھ میں ڈالیں اچھی طرح بوائل کریں۔ دودھ نارمل ٹھنڈا ہونے پر جوسر بلینڈر میں ڈال کر شیک کر لیں ایک ایک کپ دونوں میاں بیوی پی لیں سات دن تک سونے سے کم از کم دو گھنٹے قبل
نوٹ. سونے سے پہلے وضو اور بستر پر لیٹ کر سورت الفاتحہ و سورت الإخلاص و آیت الکرسی و دعاء اللهم بسمك أموت و أحيا
أللهم جنبنا الشيطان و جنب الشيطان مما رزقتنا
يَاوَالِيُّ ستر بار
پڑھ لیں
اور یہ دعاء نماز میں اور عموماً بار بار مانگتے رہیں
ربنا هب لنا من أزواجنا و ذريٰتنا قرة أعين وجعلنا للمتقين إماماً!
زندگی موت کی امانت ہے اس لیے سب کے لیے لکھ دئیے
جو جن و انس ایمان و یقین کے ساتھ دائم عمل باالتوکل کرے گا
اللہ تعالیٰ کریم جی نصرت و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جی کی شفاعت و زیارت دارین میں پائے گا.
تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
الصلوة والسلام والرحمة والبركة على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين وسلم تسليما كثيرا كثيرا
میں آپ کو اور اپنی جان کو اللّٰه تعالیٰ السمیع العلیم کی پناہ میں دیتا ہوں شیطان مردود سے اور اسکی ہمز سے اور اسکی نفخ سے اور اسکی نفث سے اور اسکی بات سے اور اسکے إلقاء سے اور اسکی دعوت سے اور اسکے عمل سے اور اسکے چووکا دینے سے اسکی ناپاکی سے اور اسکی ملمع کاریوں سے اسکے فتنے سے اسکی بندشوں سے اور اس کے ایڑھ لگانے سے اور اسکے حسد سے اور اسکے خوف سے اور اسکی نظر سے اور اسکی جھوٹی اُمیدوں سے اور اسکی تمناؤں سے اور اسکے مشوروں سے اور اسکی سرگوشی سے اور اسکے وسوسہ سے اس کے شرور سے اور اسکی موجودگی سے اور اسکے جادو سے اور اسکے نفس سے اور اسکے چھونے سے اور اسکی تدبیر سے اور اسکی مکاری سے اور اسکی دوستی و سرپرستی سے اور اسکی دشمنی سے اور اسکے وعدے سے اور اسکے حکم سے اور اسکے غلبے سے اور اسکی آواز سے اور اسکے سواروں اور پیادوں سے اور اسکے گروہوں سے اور اسکے لشکروں سے اور اسکے دوستوں سے اور اسکے مددگاروں اور بھائیوں اور اولادوں جنوں انسانوں سے کہ وہ ہمیں گمراہ کریں اور ہمیں پھسلائیں اور ہمیں بھولوائیں اور ہمیں پاگل و دیوانہ بنا کر چکرائیں اور یہ کہ وہ ہمارے قرین ساتھی بنیں اور ہمیں اللّٰه تعالیٰ کے راستے اور اللّٰه تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز سے روکیں اور یہ کہ وہ ہم پر پورے غالب آجائیں اور ہمیں اللّٰه تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیں. آمین ثم آمین للجميع
اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ (٦٦) نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ (٦٧) یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں گے کہ : ہم محض آزمائش کے لیے (بھیجے گئے) ہیں، لہذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ (٦٨) (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔ (٦٩)
تفسیر:
66: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی ایک اور بدعملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جادو ٹونے کے پیچھے لگنا ناجائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں تو ایسا جادو کفر کے مرادف ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہوسکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے اور اگر جادو سیکھ لوگے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہوگا، چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے ؛ حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف ناجائز تھا ؛ بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں، دوسرا غضب یہودیوں نے یہ کیا کہ خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جادو گر قرار دے کر ان کے بارے میں یہ مشہور کردیا کہ انہوں نے آخری عمر میں بتوں کو پوجنا شروع کردیا تھا، ان کے بارے میں یہ جھوٹی داستانیں انہوں نے اپنی مقدس کتابوں میں شامل کردیں جو آج تک بائبل میں درج چلی آتی ہیں ؛ چنانچہ بائبل کی کتاب سلاطین اول ١١۔ ١ تا ٢١ میں ان کے معاذ اللہ مرتد ہونے کا بیان آج بھی موجود ہے، قرآن کریم نے اس آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر اس ناپاک بہتان کی تردید فرمائی ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے ماخوذ ہے وہ کتنا غلط الزام ہے، یہاں قرآن کریم صریح الفاظ میں یہود ونصاری کی کتابوں کی تردید کررہا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ یہ خود معلوم کرسکتے کہ یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے، اس بات کا علم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے سوا کسی اور راستہ سے نہیں ہوسکتا تھا، لہذا یہ آیت بذات خود آپ کے صاحب وحی رسول ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ بتلایا کہ یہودیوں کی کتابوں میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیا بہتان لگایا گیا ہے ؛ بلکہ اس قدر جم کر اس کی تردید فرمائی ہے۔ 67: بابل عراق کا مشہورشہر تھا، ایک زمانے میں وہاں جادو کا بڑا چرچا ہوگیا تھا، اور یہودی بھی اس ناجائز کام میں بری طرح ملوث ہوگئے تھے، انبیاء کرام اور دوسرے نیک لوگ انہیں جادو سے منع کرتے تھے تو وہ بات نہ مانتے تھے، اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ لوگوں نے جادوگروں کے شعبدوں کو معجزے سمجھ کر انہیں اپنا دینی مقتدا بنالیا تھا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتے جن کا نام ہاروت وماروت تھا دنیا میں انسانی شکل میں بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کریں اور یہ بتائیں کہ خدائی معجزات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، معجزہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس میں کسی ظاہری سبب کا کوئی دخل نہیں ہوتا، اس کے برعکس جادو کے ذریعے جو کوئی شعبدہ دکھایا جاتا ہے وہ اسی عالم اسباب کا ایک حصہ ہے، یہ بات واضح کرنے کے لئے ان فرشتوں کو جادو کے محتلف طریقے بھی بتانے پڑتے تھے ؛ تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ کس طرح وہ سبب اور مسبب کے رشتے سے منسلک ہیں ؛ لیکن جب وہ ان طریقوں کی تشریح کرتے تو ساتھ ساتھ لوگوں کو متنبہ بھی کردیتے تھے کہ یاد رکھو ! یہ طریقے ہم اس لئے نہیں بتا رہے ہیں کہ تم ان پر عمل شروع کردو ؛ بلکہ اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر جادو اور معجزے کا فرق واضح ہو اور تم جادو سے پرہیز کرو اس لحاظ سے ہمارا وجود تمہارے لئے ایک امتحان ہے کہ ہماری باتوں کو سمجھ کر تم جادو سے پرہیز کرتے ہو یا ہم سے جادو کے طریقے سیکھ کر ان پر عمل شروع کردیتے ہو، یہ کام انبیاء کے بجائے فرشتوں سے بظاہر اس بنا پر لیا گیا کہ جادو کے فارمولے بتانا خواہ وہ صحیح مقصد سے کیوں نہ ہو، انبیائے کرام کو زیب نہیں دیتا تھا، اس کے برعکس فرشتے چونکہ غیر مکلف ہوتے ہیں اس لئے ان سے بہت سے تکوینی کام لئے جاسکتے ہیں بہر حال نافرمان لوگوں نے ان فرشتوں کی طرف سے کہی ہوئی باتوں کو تو نظر انداز کردیا اور ان کے بتائے ہوئے فارمولوں کو جادو کرنے میں استعمال کیا اور وہ بھی ایسے گھناؤنے مقاصد کے لئے جو ویسے بھی حرام تھے مثلاً میاں بیوی میں پھوٹ ڈال کر نوبت طلاق تک پہنچا دینا۔ 68: یہاں سے جملۂ معترضہ کے طور پر ایک اور اصولی غلطی پر متنبہ کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ جادو پر ایمان رکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جادو میں بذات خود ایسی تاثیر موجود ہے جس سے مطلوبہ نتیجہ خود بخود اللہ کے حکم کے بغیر بھی برآمد ہوجاتا ہے، گویا اللہ چاہے یا نہ چاہے وہ نتیجہ پیدا ہو کر رہے گا، یہ عقیدہ بذات خود کفر تھا، اس لئے واضح کردیا گیا کہ دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح جادو بھی محض ایک سبب ہے اور دنیا میں کوئی سبب بھی اپنا سبب یا نتیجہ اس وقت تک ظاہر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کی مشیت اس کے ساتھ متعلق نہ ہو، کائنات کی کسی چیز میں بذات خود نہ کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت ہے نہ نقصان پہنچانے کی، لہذا اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا، البتہ چونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے، اس لئے یہاں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی گناہ کرنا چاہتا ہے یا کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ تکوینی مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے تو اپنی مشیت سے وہ کام کرا دیتا ہے، اسی کے نتیجے میں ظالم کو گناہ اور مظلوم کو ثواب ملتا ہے، ورنہ اگر اللہ اسے کام کی قدرت ہی نہ دے تو امتحان کیسے ہو ؟ لہذا جتنے گناہ کے کام دنیا میں ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہوتے ہیں، اگرچہ اس کی رضا مندی ان کو حاصل نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رضا مندی میں فرق یہی ہے کہ مشیت اچھے برے ہر کام سے متعلق ہوسکتی ہے، مگر رضامندی صرف جائز اور ثواب کے کاموں سے مخصوص ہے۔ 69: اس آیت کے شروع میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ حقیقت جانتے ہیں کہ جو مشرکانہ جادو کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں لیکن آیت کے آخری حصہ میں فرمایا ہے کہ کاش وہ علم رکھتے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے، بظاہر دونوں باتیں متضاد لگتی ہیں لیکن درحققیت اس انداز بیان سے یہ عظیم سبق دیا گیا ہے کہ نرا علم جس پر عمل نہ ہو حقیقت میں علم کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ وہ کالعدم ہے ؛ لہذا اگر وہ یہ بات جانتے تو ہیں مگر ان کا عمل اس کے برخلاف ہے تو وہ علم کس کام کا ؟ کاش کہ وہ حقیقی علم رکھتے تو اس پر ان کا عمل بھی ہوتا۔
DA'EE QURAN (TEACHER OF QURAN)
LATE USTAZ ALI AHMED - SAQALAN ASAN QURAN - QURAN ACADEMY
This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish.OKRead More
Manage consent
Privacy Overview
This website uses cookies to improve your experience while you navigate through the website. Out of these, the cookies that are categorized as necessary are stored on your browser as they are essential for the working of basic functionalities of the website. We also use third-party cookies that help us analyze and understand how you use this website. These cookies will be stored in your browser only with your consent. You also have the option to opt-out of these cookies. But opting out of some of these cookies may affect your browsing experience.
Necessary cookies are absolutely essential for the website to function properly. These cookies ensure basic functionalities and security features of the website, anonymously.
Cookie
Duration
Description
cookielawinfo-checbox-analytics
11 months
This cookie is set by GDPR Cookie Consent plugin. The cookie is used to store the user consent for the cookies in the category "Analytics".
cookielawinfo-checbox-functional
11 months
The cookie is set by GDPR cookie consent to record the user consent for the cookies in the category "Functional".
cookielawinfo-checbox-others
11 months
This cookie is set by GDPR Cookie Consent plugin. The cookie is used to store the user consent for the cookies in the category "Other.
cookielawinfo-checkbox-necessary
11 months
This cookie is set by GDPR Cookie Consent plugin. The cookies is used to store the user consent for the cookies in the category "Necessary".
cookielawinfo-checkbox-performance
11 months
This cookie is set by GDPR Cookie Consent plugin. The cookie is used to store the user consent for the cookies in the category "Performance".
viewed_cookie_policy
11 months
The cookie is set by the GDPR Cookie Consent plugin and is used to store whether or not user has consented to the use of cookies. It does not store any personal data.
Functional cookies help to perform certain functionalities like sharing the content of the website on social media platforms, collect feedbacks, and other third-party features.
Performance cookies are used to understand and analyze the key performance indexes of the website which helps in delivering a better user experience for the visitors.
Analytical cookies are used to understand how visitors interact with the website. These cookies help provide information on metrics the number of visitors, bounce rate, traffic source, etc.
Advertisement cookies are used to provide visitors with relevant ads and marketing campaigns. These cookies track visitors across websites and collect information to provide customized ads.